...

فقیر نے شان سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں کچھ احادیث رقم کی ہیں جو ان شاءاللہ العزیز آپکے مطالعے میں اضافے کا باعث بنیں گی، آپ سے التماس ہے کہ اس تحریر کو مکمل پڑھیں اور پھر اس پوسٹ کو بغیر کسی رد وبدل کے دوست احباب میں شئیر فرمائیں تاکہ یہ مجھ فقیر کے لئے اور آپ سب کے لئے صدقہ جاریہ بن سکے،،،
از : محمد عمران سیالوی!
❤️بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ❤️
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہ
❤️شان سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ❤️
احادیث کی روشنی میں!
❤️❤️❤️’’حضرت عروہ بن زبیر رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا نام عبد اﷲ بن عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تيم بن مُرّۃ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ جنگِ بدر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ کا نام اُمُّ الخیر سلمیٰ بنت صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تيم بن مرۃ بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر بن مالک ہے۔ ام الخیر سلمیٰ کی والدہ (ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نانی) کا نام دلاف ہے اور یہی امیمہ بنت عبید اﷲ بن الناقد الخزاعی ہیں۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دادی (ابو قحافہ رضی اللہ عنہ کی والدہ) کا نام امینہ بنت عبد العزیٰ بن حرثان بن عوف بن عبید بن عُویج بن عدی بن کعب بن لؤی بن غالب بن فھر بن مالک ہے۔‘‘
❤️ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام گھر والوں نے عبداﷲ بن عثمان بن عامر بن عمرو رکھا لیکن آپ کی شہرت عتیق کے نام سے تھی۔‘‘
❤️حضرت موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ ہم ایسے چار افراد کو نہیں جانتے کہ جنہوں نے خود اور ان کے بیٹوں نے بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہو (یعنی انہیں شرف صحابیت نصیب ہوا ہو) سوائے ابوقحافہ، ابوبکر، عبدالرحمٰن بن ابی بکر اور ابو عتیق محمد بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنھم کے۔‘‘
❤️حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابو بکر رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے، اور ہم سے بہتر اور ہمارے سردار تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ فرمایا : مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے حضرت ابو بکر تھے۔‘‘
❤️عبداللہ بن حصین تمیمی سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے جس کسی کو اسلام کی دعوت دی اس نے کچھ نہ کچھ تردد، ہچکچاہٹ اور تامل کا اظہار ضرور کیا سوائے ابوبکر کے کہ اس نے بغیر کسی تردد و تامل کے فوراً میری دعوت قبول کر لی۔‘‘
❤️امّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنھا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’جسے آگ سے آزاد (محفوظ) شخص دیکھنا پسند ہو وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھ لے۔‘‘ اور آپ رضی اللہ عنہ کا لقب ولادت کے وقت آپ کے گھر والوں نے عبد اﷲ بن عثمان بن عامر بن عمرو رکھا تھا، پھر اِس پر عتیق کا لقب غالب آگیا۔
❤️حضرت ابو یحیٰی سے روایت ہے انہوں نے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو قسم اُٹھا کر کہتے ہوئے سُنا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا لقب ’’صدیق‘‘ اﷲ تعالیٰ نے آسمان سے نازل فرمایا.
❤️حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حديث بیان کی کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبل احد پر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی تھے، اچانک پہاڑ اُن کے باعث (جوش مسرت سے) جھومنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اے اُحد! ٹھہر جا، تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔‘‘
❤️حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرئیل امین سے ارشاد فرمایا : اے جبرئیل! میری قوم (واقعہ معراج میں) میری تصدیق نہیں کرے گی۔ جبرئیل علیہ السلام نے کہا ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کی تصدیق کریں گے اور وہ صدیق ہیں۔‘‘
❤️حضرت سالم بن عبد اﷲ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (ظاہری) حیات طیبہ میں کہا کرتے تھے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور پھر (ان کے بعد) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔
❤️عبد اﷲ بن سلمۃ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے کہا : کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے رسُول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے افضل ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعدسب سے افضل عمر رضی اللہ عنہ ہیں،
❤️حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’اگرمیں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں۔‘‘
❤️حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ تو نے ابو بکر کو غار میں میرا رفیق بنایا تھا پس میں اسے جنت میں اپنا رفیق بناتا ہوں۔‘‘
❤️حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر نبی کا ایک رفیق ہے پس جنت میں میرا رفیق ابو بکر ہے۔‘‘
❤️ام المومنین سيّدہ عائشہ صِدِّیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’کسی قوم کے لئے مناسب نہیں جن میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ موجود ہوں کہ ان کی امامت اِن (ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) کے علاوہ کوئی اور شخص کروائے۔‘‘
❤️حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’ہر نبی کے لئے دو وزیر آسمان والوں میں سے اور دو وزیر زمین والوں میں سے ہوتے ہیں۔ پس آسمان والوں میں سے میرے دو وزیر، جبرئیل و میکائیل علیھما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر رضی اﷲ عنہما ہیں‘
❤️حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے اﷲ رب العزت کے اِس ارشاد (اور تمام معاملات میں اُن سے مشورہ فرمائیں۔ سورۃ آل عمران، آیت : 159) کے بارے جن سے اﷲ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مشورہ فرمانے کا حکم دیا، کون مراد ہیں؟‘‘ حضرت عبداﷲ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا، وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں۔‘‘
❤️حضرت عبداﷲ بن حنطب سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہما کو دیکھا تو ارشاد فرمایا : یہ دونوں (میرے لئے) کان اور آنکھ کی حیثیت رکھتے ہیں۔‘‘
❤️اُمُّ المؤمنین سيّدہ عائشہ صدِّیقہ رضی اﷲ عنھا امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمارے سردار، ہم سب سے بہتر اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم سب سے زیادہ محبوب تھے۔‘‘
❤️حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک تریسٹھ سال (63) سال تھی اور حضرت ابوبکر صدیق کا وصال ہوا تو ان کی عمر بھی (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت میں) تریسٹھ سال تھی،،،
❤️حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا : ’’بیشک اﷲ تعالیٰ نے ایک بندے کو دنیا اور جو اﷲ کے پاس ہے کے درمیان اختیار دیا ہے۔ پس اس بندے نے اس چیز کو اختیار کیا جو اﷲ کے پاس ہے‘‘۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رو پڑے۔ ہم نے ان کے رونے پر تعجب کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو ایک بندے کا حال بیان فرما رہے ہیں کہ اس کو اختیار دیا گیا ہے۔ پس وہ (بندہ) جس کو اختیار دیا گیا تھا خود تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہم سب سے زیادہ علم رکھنے والے تھے (جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد سمجھ گئے)۔‘‘
❤️حضرت سالم بن عبداﷲ اپنے والد حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ ’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موت کا سبب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال فرمانا تھا۔ (اس فراق حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غم میں) آپ رضی اللہ عنہ کا جسم کمزور ہوتا گیا یہاں تک کہ آپ رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا۔‘‘
❤️حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں بیٹھتے تو ہماری یہ حالت ہوتی گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں اور ہم میں سے کوئی بھی کلام نہ کر سکتا سوائے ابو بکر اور عمر رضی اﷲ عنھما کے۔‘‘
❤️حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی کے مال نے کبھی مجھے اتنا نفع نہیں دیا جتنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال نے دیا ہے۔‘‘
❤️حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’کبھی کسی مال نے مجھے اتنا نفع نہیں پہنچایا جتنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مال نے مُجھے فائدہ پہنچایا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور عرض کی : یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں اور میرا مال صرف آپ کے لئے ہی ہے۔‘‘
❤️حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مرض وصال میں باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سرانور کپڑے سے لپیٹا ہوا تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر مبارک پر جلوہ افروز ہوئے۔ اﷲ رب العزت کی حمد و ثنا بیان کی پھر ارشاد فرمایا : ’’ابوبکر ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر اپنی جان و مال (قربان کرنے ) کے اعتبار سے مجھ پر زیادہ احسان کرنے والا کوئی نہیں،،،
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’تمام لوگوں میں سے سب سے زیادہ مجھ پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کا احسان ہے، مال کا بھی اور ہم نشینی کا بھی۔‘‘
❤️حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ جب اسلام لائے تو اس وقت انکے پاس گھر میں چالیس ہزار (40000) درہم موجود تھے، لیکن جب آپ رضی اللہ عنہ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے لیے نکلے تو اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کے پاس صرف پانچ ہزار (5000) درہم رہ گئے تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے یہ کثیر رقم غلاموں کو آزاد کرانے اور اسلام کی خدمت پر خرچ کر دی۔‘‘
❤️حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی کا بھی ہمارے اوپر کوئی ایسا احسان نہیں جس کا ہم نے بدلہ چکا نہ دیا ہو، سوائے ابوبکر رضی اللہ عنہ صدیق کے۔ بیشک اُن کے ہمارے اوپر احسان ہیں جن کا بدلہ اﷲ رب العزت قیامت کے دن چُکائے گا۔
❤️حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : للہ تعالیٰ آسمان پر پسند نہیں کرتا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زمین پر کوئی خطا سرزد ہو۔‘‘
وصال:دربارِ رسالت کے اس پیارے چمکتے دمکتے ستارے نے 22 جُمادَی الاُخریٰ 13 ہجری بمطابق 23 اگست 634 عیسوی پیر اور منگل کی درمیانی رات مغرب و عشا کے درمیان دارُ الفناء سے دارُ البقاء کی طرف کوچ فرمایا۔ بوقتِ وصال کے وقت آپ کی عمر 63 سال تھی۔ (فیضانِ صدیق اکبر، ص468ملخصاً) جبکہ زبانِ مبارک کے آخری کلمات یہ تھے: اے پروَردگار! مجھے اسلام پر موت عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملادے۔ (الریاض النضرۃ،ج1، ص258)آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نماز ِجنازہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پڑھائی۔
وصیّت کے مطابق آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جَسَدِ مبارک کو رَوضَۂ محبوب کے سامنے لایا گیا اور عرض کی گئی :یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ابوبکر آپ سے اجازت کے طلب گار ہیں ، روضَۂ مُبارَکہ کا دروازہ کُھل گیا اور اندر سے آواز آئی: ”اَدۡخِلُوا الۡحَبِیۡبَ اِلٰی حَبِیۡبِہٖ“ یعنی محبوب کو اس کے محبوب سے ملادو۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پہلوئے مبارک میں سپردِ رحمت کردیا گیا۔ (الخصائص الکبریٰ،ج 2، ص492 )
طالب دعا
خادم تراب نعال السیال
محمد عمران سیالوی
صدر جماعت اہلسنت کینیڈا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.