فقیر نے شان سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میں کچھ احادیث رقم کی ہیں جو ان شاءاللہ العزیز آپکے مطالعے میں اضافے کا باعث بنیں گی، آپ سے التماس ہے کہ اس تحریر کو مکمل پڑھیں اور پھر اس پوسٹ کو بغیر کسی رد وبدل کے دوست احباب میں شئیر فرمائیں تاکہ یہ مجھ فقیر کے لئے اور آپ سب کے لئے صدقہ جاریہ بن سکے،،،
از : محمد عمران سیالوی!
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا حَبِیْبَ اللّٰہ
احادیث کی روشنی میں!
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’تمام لوگوں میں سے سب سے زیادہ مجھ پر ابوبکر رضی اللہ عنہ کا احسان ہے، مال کا بھی اور ہم نشینی کا بھی۔‘‘
وصال:دربارِ رسالت کے اس پیارے چمکتے دمکتے ستارے نے 22 جُمادَی الاُخریٰ 13 ہجری بمطابق 23 اگست 634 عیسوی پیر اور منگل کی درمیانی رات مغرب و عشا کے درمیان دارُ الفناء سے دارُ البقاء کی طرف کوچ فرمایا۔ بوقتِ وصال کے وقت آپ کی عمر 63 سال تھی۔ (فیضانِ صدیق اکبر، ص468ملخصاً) جبکہ زبانِ مبارک کے آخری کلمات یہ تھے: اے پروَردگار! مجھے اسلام پر موت عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملادے۔ (الریاض النضرۃ،ج1، ص258)آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نماز ِجنازہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے پڑھائی۔
وصیّت کے مطابق آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے جَسَدِ مبارک کو رَوضَۂ محبوب کے سامنے لایا گیا اور عرض کی گئی :یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ابوبکر آپ سے اجازت کے طلب گار ہیں ، روضَۂ مُبارَکہ کا دروازہ کُھل گیا اور اندر سے آواز آئی: ”اَدۡخِلُوا الۡحَبِیۡبَ اِلٰی حَبِیۡبِہٖ“ یعنی محبوب کو اس کے محبوب سے ملادو۔ چنانچہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پہلوئے مبارک میں سپردِ رحمت کردیا گیا۔ (الخصائص الکبریٰ،ج 2، ص492 )
طالب دعا
خادم تراب نعال السیال
محمد عمران سیالوی
صدر جماعت اہلسنت کینیڈا