الٰہی تابود خورشید و ماہی
چراغ چشتیاں را روشنائی
اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(62)الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَﭤ(63)لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِؕ-لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُﭤ(64)
سورۃ یونس
سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے، ان کے لئے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں خوشخبری ہے ، اللہ کی باتیں بدلتی نہیں ،یہی بڑی کامیابی ہے، ( کنز الایمان)
الولَاَءُ، وا لتَّوالِیْ ان یحصل شیئاَنِ فصا عدًا حصولًا لیس بینھما مالیس منهما ویستعار ذلک للقرب من حیث المکان ومن حیث النسبة ومن حیث الدین ومن حیث الصداقة، والنصرة والاعتقاد والولایة النصرة.
ولاء او توالی کا مطلب دو یا زیادہ چیزیں اس طرح موجود ہوں کہ ان کے درمیان کوئی غیر نہ ہو اور اس کلمہ کو قُرب کے معنی میں استعمال کیا گیا۔ یہ قرب مکانی اور نسبی، دینی، دوستی، مدد، عقیدہ کے معنی میں بھی استعمال ہوا۔
اور
صاحب تاج العروس فرماتے ہیں
الولی، المحب، الصدیق، النصیر، الغالب، القریب، الناصر المالک، المتصرف، المدبر، مقتدر.
محب، دوست، مددگار، غالب، قریب، مالک، متصرف، مدبر، مقتدر۔
حضرت سعید بن جبیر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا: اولیاء اللہ کون ہیں؟ فرمایا:
هم الذین یذکر الله برؤیتهم.
اولیاء اللہ وہ ہیں جن کے دیکھنے سے اللہ یاد آجائے۔
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کی: یارسول اللہ! اولیاء اللہ کون ہیں؟ فرمایا:
الذین اذا رئووا ذکر اللہ.
جن کے دیکھنے سے اللہ یاد آجائے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (حدیث قدسی) اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
من عادیٰ لی ولیًّا فقد اذنته بالحرب، وماتقرب الی عبد بشئی احب مما افترضتُ علیه، وما یزال عبدی یتقرّبُ الی بالنوافل حتی احببتهُ، فکنتُ سمعه الذی یسمع به، وبصره الذی یبصُرُ به، ویده التی یبطش بھا، ورجله التی یمشی بھا، وان سالنی لَاُعطِیَنّهٗ، ولئن استعاذنی لَاُعِیْذنّهٗ، وما ترددتُّ عن شیئٍ انا فاعله تَرَدُّدِی عن نفس المومن یکره الموت وانا اکره مساء تَهٗ ولا بُدّلهٗ منه.
’’جس کسی نے میرے ولی سے دشمنی کی، میں اُسے اعلان جنگ کرتا ہوں اور بندے کا میرا قرب حاصل کرنے کے لیے میں نے جو احکام اس پر فرض کیے ہیں، ان کے بجا لانے سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں اور میرا بندہ ہمیشہ نفلی عبادت کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پھر میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے اور ا سکی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور پاؤں بنتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر مجھ سے مانگے تو ضرور عطا کرتا ہوں اور اگر مجھ سے پناہ مانگے تو ضرور اسے پناہ دیتا ہوں اور میں جو کرنا چاہوں اس میں مجھے کوئی تردد نہیں، جتنا تردد مجھے مسلمان کی جان سے متعلق ہوتا ہے۔ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس کی تکلیف کو ناپسند کرتا ہوں۔ حالانکہ اس سے اسے چارہ نہیں‘‘۔
اولیاء الله قوم صفرالوجوه من السهر.
راتوں کے جگراتوں سے ان کے چہرے زرد.
عمش العیون من العبر
ان کی آنکھیں آنسوئوں سے تر
خمص البطون من الجوع
بھوک سے ان کے پیٹ سکڑے ہوئے
یبس الشفاه من الذوی۔۔۔
پیاس سے ہونٹ خشک۔
جب اللہ ان کا والی، وارث اور دوست ہوجاتا ہے تو یہ دنیا و آخرت کے خوف و غم سے آزاد ہوجاتے ہیں۔
لا خوف علیهم لان الله یتولاهم ولا هم یحزنون لتعویض الله ایاهم فی اولاهم واخراهم لانه ولیهم ومولاهم.
ان پر کچھ خوف نہیں، اس لیے کہ اللہ ان کا دوست ہے۔ نہ وہ دنیا میں غمگین ہوتے ہیں اس لیے کہ اللہ ان کو دنیا و آخرت میں صلہ دیتا ہے کہ وہ ان کا ولی و مولیٰ ہے۔
(امام قرطبی، الجامع الاحکام القرآن)
حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز سَیِّدمُعینُ الدِّین حسن سَنْجَری چشتی اَجمیری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ ۵۳۷ ھ میں ایران کےعَلاقے”سَنْجَر“میں پیداہوئے ،،،آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کااسمِ گرامی حسن ہےاورآپ نَجِیْبُ الطَّرَفَیْن یعنی حسنی وحسینی سَیِّد ہیں۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے اَلقاب بہت زیادہ ہیں، مگرمشہور ومعروف اَلقاب میں مُعینُ الدِّین ، خواجہ غریب نواز،سُلطانُ الہِنْد، وارثُ النبی اور عطائے رسول وغیرہ شَامل ہیں،،
حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے والد ِماجد حضرت سَیِّد غیاثُ الدِّین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کا شمار”سنجر“کے اَمِیروں اور سرداروں میں ہوتاتھا،۔ اِنْتہائی مُتَّقِی وپرہیز گاراورصاحبِ کرامت بُزرگ تھے۔نیز آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کى والدہ ماجدہ ام الورع بی بی ماہ نُوررَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہَا بھی اکثر اوقات عبادت و رِیاضت میں مشغول رہنےوالی نیک سیرت خاتون تھیں، جب حضرت سَیِّدُنا خواجہ غریب نواز رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ پندرہ (15)سال کی عُمر کوپہنچے تو والدِمُحترم کا وصالِ پُرملال ہوگیا۔وراثت میں ایک باغ اور ایک پَن چکی(یعنی پانی کی مدد سے چلنے والی آٹا پِیسنے کی چکی) ملی ،آپ رَحْمَۃُاللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نےاسی کو ذریْعۂ مُعاش بنالیا اورخود ہی باغ کی نگہبانی کرتے اوردرختوں کو پانی دیتے،،،
سُلطانُ الہِنْدحضرت سَیِّدُنا خواجہ مُعینُ الدِّین چشتی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے 9 اور بعض روایات میں 15 برس کی عُمر میں حفظ قرآن مکمل فرمایا پھر حصولِ علم کیلئے سفر اِختیارکِیا اورسَمَرقَنْد میں حضرت سَیِّدُنا مولانا شَرَفُ الدّین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر باقاعدہ علمِ دین کا آغاز کِیا۔ قرآنِ پاک حفظ کرنے کے بعد انہی سے دیگر عُلوم حاصل کئے،،، آپ جیسے جیسے علمِ دین حاصل کرتے گئے، ذوقِ علم بڑھتا گیا،چُنانچہ علم کی پیاس بجھانے کیلئے بُخارا کا رُخ کِیا اورشُہرۂ آفاق عالِمِ دین مولانا حُسَامُ الدّین بخاری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی شاگردی اِخْتِیار کی اور پھر انہی کی شفقتوں کے سائے میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے تھوڑے ہی عرصہ میں اُس وقت کے رائج تمام دینى عُلوم کى تکمیل کرلی۔اس طرح آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سَمَرقند اور بُخارا میں مجموعی طور پر تقریباً پانچ 5سال حُصولِ علم کیلئے قیام فرمایا، اِس عرصے میں عُلومِ ظاہرى کی تکمیل تو ہو چکی تھی، مگر جس تڑپ کی وجہ سے گھربار کو خیر باد کہا تھا، اس کی تسکین ابھی باقی تھی چُنانچہ
مُرشدِ کامل کى تلاش میں بُخارا سے حجاز کا رختِ سفر باندھا۔ راستے میں جب نیشاپور(صوبہ خُراسان ،ایران )کے نواحی علاقے”ہاروَن“سے گُزر ہوا اورمردِ قلندر قُطبِ وقت حضرت سَیِّدُنا خواجہ عُثمان ہاروَنى چشتی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کاچرچا سنا تو فوراً حاضرِ خدمت ہوئے اور اُن کے دستِ حق پرست پربیعت کرکے سلسلۂ عالیہ چشتیہ بہشتیہ میں داخل ہوگئے،،، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ساری زندگی رسولِ ہاشمی، مکی مدنی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ارشاداتِ عالیہ کو عام کرنے کیلئے وقف فرما دی تھی ،
حضرت سَیِّدُنا خواجہ مُعینُ الدِّین چشتی اجمیری رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ بہت سی ظاہری و باطنی خُوبیوں کے مالک ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ہی عظمت و شان والے بُزرگ اور اللہ
عَزَّوَجَلَّ کے برگُزیدہ ولی بھی تھے۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی نگاہِ فیض کی بدولت نہ صرف بہت سے گُناہ گاروں نے توبہ کی بلکہ لاکھوں غیرمُسلموں نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے دستِ حق پرست پر اسلام بھی قبول کِیا،،،
سید معین الدین چشتی الاجمیری بن سید غیاث الدین بن سید سراج الدین بن سید عبد اللہ بن سید کریم بن سید عبد الرحمن بن سید اکبر بن سید محمد بن سید علی بن سید جعفر بن سید باقر بن سید محمد بن سید علی بن سید احمد بن ابراہیم مرتضی بن امام موسی کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن علی زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن حضرت علی المرتضیٰ رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین،
اور
پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں بعض بزرگان دین نے خراسان کے ایک قصبہ چشت میں رشد و ہدایت کا ایک سلسلہ شروع کیا٬ جو دور دور تک پھیلتا چلا گیا، یہ خانقاہی نظام طریقہ سلسلہ چشتیہ کے نام سے موسوم ہوا٬
محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم
حضرت علی ابن ابی طالب
حضرت خواجہ حسن بصری
حضرت خواجہ عبدالواحد بن زید
حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض
حضرت خواجہ ابراہیم بن ادہم البلخی
حضرت خواجہ حذیفہ مرعشی
حضرت خواجہ ابو ہبیرہ بصری
حضرت خواجہ ممشاد علوی دینوریؒ
حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی چشتی
حضرت خواجہ ابو احمد ابدال چشتی
حضرت خواجہ ابو محمد چشتی
حضرت خواجہ ابو یوسف چشتی
حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی
حضرت خواجہ حاجی شریف زندانی
حضرت خواجہ عثمان ہارونی
حضرت خواجہ معین الدین چشتی
انیسالارواح : یا انیس دولت، جو ملفوظات خواجہ عثمان ہاروَنیتحریر کیے
گنج اسرار، مجموعہ دیگر از ملفوظات خواجہ عثمان ہارونی اور شرح مناجات خواجہ عبد اللّہ انصاری ہیں
دلیلالعارفین، یہ کتاب مسائل طہارت، نماز، ذکر، محبت، وحدت و آداب سالکین ہیں
بحرالحقائق، ملفوظاتخواجہ معینالدین چشتی خطاب ہے خواجہ قطبالدین بختیار
اسرارالواصلین، اس میں شامل آٹھ خطوط جو خواجہ قطبالدین اوشي بختیار کاکی کو لکھے
رسالہ وجودیہ
کلمات خواجہ معینالدین چشتی
دیوان مُعین الدين چشتي، اس میں شامل غزلیات فارسی
حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ کے ویسے تو بے شمار خلفاء ہیں اختصار کیوجہ سے چند خلفاء کے ذیل میں نام لکھ رہا ہوں،،
حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکی (خلیفہ اکبر و جانشین)
حضرت خواجہ قاضی حميد الدين سعيد ناگوری
حضرت خواجہ فخرالدين بن حضرت معین الدین چشتی
حضرت خواجہ جمال بن حضرت معین الدین چشتی
حضرت خواجہ محمد يادگار سبزواری
حضرت سلطان شمس الدين التتمش بادشاہ ہندوستان
حضرت خواجہ فخرالدين گرديزی
حضرت خواجہ ضياء الدين بلخی
حضرت خواجہ شہاب الدين محمد بن سام غوری فاتح دہلی
حضرت خواجہ علی بخاری
رحمہم اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین
ایک روایت کے مطابق تاريخ وفات 6 رجب627ھ 661هـ-1230ء ہے۔ آپ 97 سال حیات رہے جبکہ دوسری روایت میں 103 سال کی عمر میں آپ کا وصال 633ھ ْ 1229ء میں اجمیر میں ہوا،،
1-حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا
نماز ایک امانت ہے پروردگار عالم سے بندوں پر واجب ہے کہ اس امانت کو ایسا نگاہ رکھیں اور اس کا حق ایسا ادا کریں کہ کوئی خیانت اس میں ظاہر نہ ہو
کتاب مناقب الحبیب ص139
2-حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ نے فرمایا
اہلِ طریقت کےلئے دس شرطیں لازم ہیں
اول ، طلبِ حق
دوم ، طلبِ مرشد
سوم ، ادب
چہارم ، رضا
پنجم ، محبت و ترکِ فضول
ششم ، تقویٰ
ہفتم ، استقامتِ شریعت
ہشتم ، کم کھانا و کم سونا
نہم ، عزلت اختیار کرنا خلق سے
دہم ، روزہ ، نماز
بحوالہ کتاب معین الہند ص155
3-حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا
عارفین آفتاب کی مانند ہیں جو دنیا پر چمکتے ہیں۔ اور سارا جہان ان کے نور سے منور ہو جاتا ہے
بحوالہ کتاب تذکرہ پنج پیر ص 32
4-حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا
جو شخص بھوکے آدمی کو پیٹ بھر کر کھانا کھلائے اللہ تعالیٰ درمیان اس کے اور دوزخ کے سات حجاب کر دیتا ہے اور ہر ایک حجاب کا پانچ سو برس کا راستہ ہوگا
بحوالہ کتاب مناقب الحبیب ص140
5-حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا
حق تعالیٰ کے نزدیک بہترین عبادت مظلوموں کی فریاد رسی اور بھوکوں کو کھانا کھلانا ہے ۔
بحوالہ کتاب تذکرہ پنج پیر ص 31
برادر طریقت حضرت خلیفہ محمد ہادی صاحب نے یہ اقوال مختلف کتب سے نقل فرما کر بھیجے ہیں جو یہاں حصول برکت و ثواب کی نیت سے تحریر کر دئیے ہیں،،
طالب دعا
خادم تراب نعال السیال
محمد عمران سیالوی عفی عنہ