إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ. فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ
بے شک ہم نے اسے ایک با برکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔ اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔
تفسیر
سُمِّيَتْ لَيْلَةً مُبَارَكَةً لِتَقْدِيْرِ اللهِ تَعَالَى فِيْهَا مَا يَكُوْنُ فِي تِلْكَ السَّنَةِ مِنَ الْأَرْزَاقِ وَالْآجَالِ وَغَيْرِ ذَلِكَ، وَالْمُرَادُ بِهَذَا التَّقْدِيْرِ إِظْهَارُ ذَلِكَ لِلْمَلَائِكَةِ، وَهِيَ الْمُرَادُ بِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿إِنَّآ أَنزَلۡنَٰهُ فِي لَيۡلَةٖ مُّبَٰرَكَةٍۚ إِنَّا كُنَّا مُنذِرِينَ. فِيهَا يُفۡرَقُ كُلُّ أَمۡرٍ حَكِيمٍ. أَمۡراً مِّنۡ عِندِنَآۚ إِنَّا كُنَّا مُرۡسِلِينَ.﴾
[الدخان، 44: 3-5].
شعبان کی پندرھویں رات کو ’لیلۃ مبارکہ‘ کا نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اس رات میں آئندہ سال کے اَرزاق اور اَموات وغیرہ کا فیصلہ تقدیرِ اِلٰہی سے کیا جاتا ہے۔ اس تقدیر سے مراد اس کا فرشتوں کے سپرد کیا جانا ہے۔ یہی الله تعالیٰ کے اِس فرمان سے مراد ہے: ﴿بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں۔ اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ ہماری بارگاہ کے حکم سے، بے شک ہم ہی بھیجنے والے ہیں،
يَقُوْلُ الْإِمَامُ السَّمْعَانِيُّ (ت: 489ﻫ) مُبَيِّنًا وَجْهَ تَسْمِيَةِ لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ بِلَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ: وَسَمَّاهَا مُبَارَكَةً لِكَثْرَةِ الْخَيْرِ فِيْهَا. وَالْبَرَكَةُ: نَمَاءُ الْخَيْرِ، وَنَقِيْضُهُ الشُّؤْمُ: نَمَاءُ الشَّرِّ. وَقِيْلَ: مُبَارَكَةٌ لِأَنَّهُ يُرْجَى فِيْهَا إِجَابَةُ الدُّعَاءِ.
السمعاني في تفسير القرآن، 5: 121.
ماہِ شعبان المعظم کی پندرہویں شب کو لیلۃ مبارکہ کہنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام سمعانی (م489ھ) رقم طراز ہیں: شبِ نصف شعبان کو الله تبارك و تعالیٰ نے برکت والی رات قرار دیا ہے، کیوں کہ اِ س رات میں کثرت کے ساتھ خیر اور بھلائی پائی جاتی ہے۔ برکت کا معنی ہے: خیر کا بڑھنا اور اس کی ضد بد شگونی ہے، جس سے مراد شَر کا بڑھنا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے: یہ رات اِس لیے مبارک ہے کیوں کہ اِس میں دعا کی قبولیت کی اُمید کی جاتی ہے۔
احادیث مبارکہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رضی الله عنها، قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ لَيْلَةً فَخَرَجْتُ، فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ، فَقَالَ: أَكُنْتِ تَخَافِيْنَ أَنْ يَحِيْفَ اللهُ عَلَيْكِ وَرَسُوْلُهُ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنِّي ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ. فَقَالَ: إِنَّ اللهَ تعالیٰ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعْرِ غَنَمِ كَلْبٍ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ وَابْنُ مَاجَه وَابْنُ أَبِيْ شَيْبَةَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيْقِ رضی اللہ عنه.
احمد بن منیع > یزید بن ہارون > حجاج بن اَرطاۃ > یحی بن ابی کثیر > عروہ > انہوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں: ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو (خواب گاہ میں) نہ پایا تو میں (آپ ﷺ کی تلاش میں) نکل پڑی۔ کیا دیکھتی ہوں کہ آپ ﷺ جنت البقیع میں ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تجھے ڈر ہے کہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ تیرے ساتھ نا انصافی کرے گا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے سوچا کہ شاید آپ کسی دوسری زوجہ کے ہاں تشریف لے گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات (اپنی شان کے لائق) آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ لوگوں کو بخشتا ہے۔
اسے امام احمد بن حنبل، ترمذی، ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ امام ترمذی کے ہیں۔ امام ترمذی نے اسے روایت کرنے کے بعد کہا ہے: اس موضوع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بھی روایت بیان ہوئی ہے۔
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيْقِ رضی اللہ عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِذَا كَانَ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَنْزِلُ اللهُ تعالیٰ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَغْفِرُ لِعِبَادِهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ مُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ لِأَخِيْهِ.
أخرجه البزار في المسند، 1: 206-207، الرقم: 80، والبيهقي في شعب الإيمان، 3: 381، الرقم: 3829، وذكره المنذري في الترغيب والترهيب، 3: 307، الرقم: 4190، والهيثمي في مجمع الزوائد، 8: 65.
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا: جب ماہِ شعبان کی پندرہویں رات آتی ہے تو الله تبارک و تعالیٰ آسمانِ دنیا پر (اپنی حسبِ شان) نزول فرماتا ہے اور سوائے مشرک اور اپنے بھائی سے بغض و عناد رکھنے والے کے اپنے سارے بندوں کی بخشش فرما دیتا ہے۔
وَفِي رِوَايَةِ أَبِي مُوْسَى الْأَشْعَرِيِّ رضی اللہ عنه عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ قَالَ: إِنَّ اللهَ لَيَطَّلِعُ فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَيَغْفِرُ لِجَمِيْعِ خَلْقِهِ إِلَّا لِمُشْرِكٍ أَوْ مُشَاحِنٍ.
رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه، وَذَكَرَهُ الْمِزِّيُّ فِي ‹‹التَّهْذِيْبِ›› بِسَنَدٍ جَيِّدٍ، فَلَا شَكَّ فِي صِحَّةِ هَذَا الْحَدِيْثِ.
أخرجه ابن ماجه في السنن، كتاب إقامة الصلاة، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، 1: 445، الرقم: 1390، وذكره المزي في تهذيب الكمال، 9: 308، الرقم: 1964
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ، رسول الله ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات کو (آسمان دنیا پر) ظہورِ اِجلال فرماتا ہے اور اپنی تمام مخلوق کی بخشش فرما دیتا ہے سوائے مشرک اور چغل خور کے۔
اسے امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور امام مزی نے یہ حدیث ’’تہذیب الکمال‘‘ میں بہت اعلیٰ سند سے بیان کی ہے۔ لہٰذا اس حدیث کے صحیح مرفوع متصل ہونے میں کسی شک کی گنجائش نہیں رہتی۔
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی اللہ عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُوْمُوْا لَيْلَهَا وَصُوْمُوْا نَهَارَهَا، فَإِنَّ اللهَ يَنْزِلُ فِيْهَا لِغُرُوْبِ الشَّمْسِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ؟ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ؟ أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ؟ أَلَا كَذَا؟ أَلَا كَذَا؟ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ.
رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالْبَيْهَقِيُّ وَالدَّيْلَمِيُّ.
أخرجه ابن ماجه في السنن، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، 1: 444، الرقم: 1388، والبيهقي في شعب الإيمان، 3: 379، الرقم: 3822، والديلمي في مسند الفردوس، 1: 259، الرقم: 1007، وعبد الغني المقدسي في الترغيب في الدعاء، ص: 72، الرقم: 33.
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول الله ﷺ نے فرمایا ہے: جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو تم اس رات میں قیام کیا کرو اور اس کے دن کا روزہ رکھا کرو۔ بے شک الله تعالیٰ اس رات کو اپنی شان کے مطابق غروبِ آفتاب کے وقت سے ہی آسمانِ دنیا پر نزولِ اِجلال فرماتا ہے اور طلوعِ فجر تک فرماتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا نہیں ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا نہیں ہے کہ میں اسے رزق دوں؟ کیا کوئی بیماری میں مبتلا نہیں ہے کہ میں اسے شفا دوں؟ کیا کوئی ایسا نہیں ہے؟ کیا کوئی ویسا نہیں ہے؟
اسے امام ابنِ ماجہ، بیہقی اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔
عَنْ كَثِيْرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: فِي لَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ يَغْفِرُ اللهُ تعالیٰ لِأَهْلِ الْأَرْضِ إِلَّا الْمُشْرِكَ وَالْمُشَاحِنَ.
رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَقَالَ: هَذَا مُرْسَلٌ جَيِّدٌ (لِأَنَّ كَثِيْرَ بْنَ مُرَّةَ تَابِعِيٌّ).
أخرجه البيهقي في شعب الإيمان، 3: 381، الرقم: 3831.
حضرت کثیر بن مرہ الحضرمی، حضور نبی اکرم ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ رب العزت شعبان کی پندرہویں رات مشرک اور بغض رکھنے والے کے سوا تمام اہل زمین کو بخش دیتا ہے۔
اِسے امام بیہقی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے: یہ حدیث مرسل جید ہے (کیونکہ کثیر بن مرہ تابعی ہیں)۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اللہ عنهما قَالَ: خَمْسُ لَيَالٍ لَا يُرَدُّ فِيْهِنَّ الدُّعَاءُ: لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ وَأَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَلَيْلَتَا الْعِيْدِ.
رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالْبَيْهَقِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ.
أخرجه عبد الرزاق في المصنف، 4: 317، الرقم: 7927، والبيهقي في شعب الإيمان، 3: 342، الرقم: 3713.
حضرت عبد الله بنِ عمر رضی اللہ عنهما سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: پانچ راتوں میں دعا رَد نہیں ہوتی: جمعہ کی رات، ماہِ رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات اور عیدین (عید الفطر اور عید الاضحیٰ)کی راتیں۔
اِسے امام عبد الرزاق اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ بیہقی کے ہیں،،
وَفِي رِوَايَةِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی اللہ عنه أَنَّهُ قَالَ: يُعْجِبُنِي أَنْ يُفْرِغَ الرَّجُلُ نَفْسَهُ فِي أَرْبَعِ لَيَالٍ: لَيْلَةِ الْفِطْرِ وَلَيْلَةِ الْأَضْحَى وَلَيْلَةِ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ وَأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ.
ذَكَرَهُ ابْنُ الْجَوْزِيِّ.
ابن الجوزي في التبصرة، 2: 20.
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا: مجھے وہ شخص بہت پسند ہے جو اپنے آپ کو اِن چار راتوں میں عبادت کے لیے فارغ کر لیتا ہے: عید الفطر کی رات، عید الاضحیٰ کی رات، شعبان کی پندرہویں رات اور رجب کی پہلی رات۔
اسے علامہ ابن الجوزی نے بیان کیا ہے،
کچھ مخصوص دعائیں
أَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَأَعُوْذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ، وَأَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ، أَقُوْلُ كَمَا قَالَ أَخِي دَاوُدُ، أُعَفِّرُ وَجْهِي فِي التُّرَابِ لِسَيِّدِي، وَحَقٌّ لَهُ أَنْ يُسْجَدَ.)
’(اے الله!) میں تیری ناراضگی سے تیری رضا کی پناہ چاہتا ہوں۔ میں تیری پکڑ سے تیری مغفرت کی پناہ طلب کرتا ہوں۔ میں (ہر قسم کے شر سے) تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ تیرا چہرہ جلالت والا ہے، میں تیری اُس طرح حمد و ثنا بیان نہیں کر سکتا جس طرح تُو نے خود اپنی حمد و ثنا بیان کی ہے۔ میں اُسی طرح تیری بارگاہ میں عرض گزار ہوں جیسے میرے بھائی داؤود علیہ السلام ہوئے تھے۔ میں اپنے آقا کے لیے اپنے چہرے کو خاک آلود کرتا ہوں، وہی اس کا حق دار ہے کہ اُسے سجدہ کیا جائے‘۔
اللَّهُمَّ، ارْزُقْنِي قَلْبًا تَقِيًّا مِنَ الشَّرِّ نَقِيًّا لَا جَافِيًا وَلَا شَقِيًّا.) ’اے الله! مجھے متقی دل عطا فرما، جو بُرائی سے بچنے والا ہو، سخت اور شقی نہ ہو‘۔
مختصراً شب برات کے حوالے سے جو بیان کیا اللہ کریم ہم سب کو اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ،،
طالب دعا
خادم تراب نعال السیال
محمد عمران سیالوی